اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شہر کراچي کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، مرنے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ کا کارکن بھی شامل ہے۔بلدیہ ٹاؤن کے علاقے 7 نمبر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے30 سالہ شخص ہلاک ہوگیا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید اسپتال پہنچائی گئی، مقتول متحدہ قومی موومنٹ یونٹ 116 کا کارکن تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا، واقعہ کے بعد علاقہ ایس ایچ او سفیان ملک نے موبائل فون سوئچ آف کر دیا تھا، لیاری کے علاقے سنگولین میں مولوی عثمان پارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 55 سالہ شخص ہلاک ہوگیا، ایس ایچ او کلاکوٹ حاجی ثناء اللہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول کی شناخت جیب سے ملنے والے شناختی کارڈ کے ذریعے ہوئی ہے۔ جمشید کوارٹرز کے علاقے پٹیل پاڑہ میں فائرنگ سے 35 سالہ شخص ہلاک ہوگیا، لیاقت آباد کے علاقے 4 نمبر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 30 سالہ بشارت علی ولد قمبر علی شدید زخمی ہوگیا جسے عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج ہلاک ہوگیا۔ کراچي میں طالبانی دہشت گردی جاری ہے جس میں وہابی مدرس اور علماء ملوث بتائے جاتے ہیں۔ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے وہابی فکر و سوچ کا خآتمہ بہت ضروری ہےوہابی فکر ، اسلامی فکر کے بالکل منافی ہے۔
.......
/169